صارفین کے حقوق کا تحفظ: وہ معلومات جو آپ کو ضائع ہونے سے بچا سکتی ہیں!

webmaster

**

A Pakistani consumer reviewing a product label at a bustling local market (bazaar). She is wearing a modest shalwar kameez. Stalls are filled with colorful goods. Focus on her thoughtful expression, emphasizing consumer awareness. Safe for work, appropriate content, fully clothed, professional, perfect anatomy, natural proportions, high resolution.

**

کیا آپ بھی آئے دن مختلف قسم کے قانونی مسائل سے دوچار رہتے ہیں؟ ہمارے معاشرے میں صارفین کو باخبر رکھنا اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنا بہت ضروری ہے۔ اکثر اوقات ہم کسی پروڈکٹ یا سروس سے مطمئن نہیں ہوتے، یا پھر ہمیں کسی فراڈ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں قانونی مدد حاصل کرنا ہمارا حق ہے۔ یہ مضمون آپ کو بتائے گا کہ آپ کیسے اپنے حقوق کا تحفظ کر سکتے ہیں اور مختلف قانونی وسائل سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ صارفین کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین آپ کی مدد کے لیے حاضر ہیں۔ اب ہم اس موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالیں گے۔
آئیے اس بارے میں مزید تفصیلات معلوم کریں۔

قانون صارفین کے تحفظ کے دائرے میں کیسے تشریف لے جائیں؟قانونی امداد حاصل کرنا اس وقت ضروری ہو جاتا ہے جب آپ کسی ایسی صورتحال میں پھنس جائیں جہاں آپ کو اپنے حقوق کا علم نہ ہو یا آپ کو یہ سمجھ نہ آئے کہ آپ کو کیا کرنا چاہیے۔ پاکستان میں ایسے کئی ادارے اور تنظیمیں موجود ہیں جو آپ کو مفت قانونی مشورہ اور مدد فراہم کر سکتی ہیں۔ ان میں سے کچھ بڑے نام درج ذیل ہیں:

صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی راستے

صارفین - 이미지 1
صارفین کو اکثر ان مصنوعات یا خدمات کے بارے میں شکایت ہوتی ہے جو انہوں نے خریدی ہوتی ہیں یا حاصل کی ہوتی ہیں۔ یہ شکایات ناقص معیار، غلط بیانی، یا وعدوں کی عدم تعمیل سے متعلق ہو سکتی ہیں۔ پاکستان میں صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کئی قانونی راستے موجود ہیں جن سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

شکایت درج کرانا

  • سب سے پہلے، آپ متعلقہ کمپنی یا سروس فراہم کرنے والے کے پاس اپنی شکایت درج کرائیں۔ اکثر کمپنیاں صارفین کی شکایات کو حل کرنے کے لیے ایک مخصوص نظام رکھتی ہیں۔
  • اگر کمپنی آپ کی شکایت کا ازالہ کرنے میں ناکام رہتی ہے، تو آپ کنزیومر پروٹیکشن کونسل (Consumer Protection Council) یا کسی اور متعلقہ ریگولیٹری اتھارٹی میں شکایت درج کرا سکتے ہیں۔
  • صارفین کی شکایات درج کرانے کے لیے آن لائن پورٹلز بھی موجود ہیں جہاں آپ آسانی سے اپنی شکایت درج کروا سکتے ہیں۔

قانونی نوٹس بھیجنا

  • اگر آپ کی شکایت کا ازالہ نہیں ہوتا، تو آپ ایک وکیل کے ذریعے کمپنی کو قانونی نوٹس بھیج سکتے ہیں۔ یہ نوٹس انہیں آپ کے حقوق کی خلاف ورزی سے آگاہ کرے گا اور انہیں ایک مخصوص مدت کے اندر مسئلہ حل کرنے کا موقع دے گا۔
  • قانونی نوٹس میں آپ کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ اور اس کے ازالے کا مطالبہ بھی شامل ہونا چاہیے۔
  • قانونی نوٹس بھیجنے سے اکثر کمپنیاں سنجیدہ ہو جاتی ہیں اور مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

آن لائن دھوکہ دہی سے کیسے بچیں؟

آج کل آن لائن شاپنگ کا رجحان بڑھ گیا ہے، اور اس کے ساتھ ہی آن لائن دھوکہ دہی کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اگر آپ آن لائن دھوکہ دہی کا شکار ہو جاتے ہیں، تو آپ درج ذیل اقدامات کر سکتے ہیں:

فوری رپورٹ درج کرائیں

  • اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ آن لائن دھوکہ دہی کا شکار ہو گئے ہیں، تو فوری طور پر سائبر کرائم ونگ (Cyber Crime Wing) میں رپورٹ درج کرائیں۔
  • اپنے بینک اور کریڈٹ کارڈ کمپنی کو بھی مطلع کریں تاکہ وہ آپ کے اکاؤنٹ کو بلاک کر سکیں اور مزید نقصان سے بچا جا سکے۔
  • آن لائن پلیٹ فارم جہاں آپ نے خریداری کی تھی، ان کو بھی اس واقعے کی اطلاع دیں۔

ثبوت جمع کریں

  • دھوکہ دہی سے متعلق تمام ثبوت جمع کریں، جیسے کہ ای میلز، رسیدیں، اور بینک اسٹیٹمنٹس۔
  • ان ثبوتوں کو اپنی رپورٹ کے ساتھ منسلک کریں تاکہ آپ کے کیس کو مضبوط بنایا جا سکے۔
  • اس کے علاوہ، اگر ممکن ہو تو اس شخص یا کمپنی کی معلومات بھی جمع کریں جس نے آپ کو دھوکہ دیا ہے۔

مفت قانونی امداد کیسے حاصل کریں؟

پاکستان میں بہت سے ایسے ادارے موجود ہیں جو مستحق افراد کو مفت قانونی امداد فراہم کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ اہم ادارے درج ذیل ہیں:

لیگل ایڈ سوسائٹیز

  • پاکستان میں کئی لیگل ایڈ سوسائٹیز موجود ہیں جو غریب اور مستحق افراد کو مفت قانونی مشورہ اور نمائندگی فراہم کرتی ہیں۔
  • یہ سوسائٹیز آپ کو مختلف قانونی مسائل میں مدد کر سکتی ہیں، جیسے کہ خاندانی مسائل، جائیداد کے تنازعات، اور مجرمانہ مقدمات۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں

  • پاکستان میں بہت سی انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی کام کر رہی ہیں جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے شکار افراد کو قانونی مدد فراہم کرتی ہیں۔
  • یہ تنظیمیں آپ کو تشدد، امتیازی سلوک، اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھانے میں مدد کر سکتی ہیں۔

صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکومتی اقدامات

حکومت پاکستان نے صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ ان میں سے کچھ اہم اقدامات درج ذیل ہیں:

کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ

  • حکومت نے کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ (Consumer Protection Act) نافذ کیا ہے، جو صارفین کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے اور انہیں ناقص مصنوعات اور خدمات کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق دیتا ہے۔
  • یہ ایکٹ صارفین کو جعلی اشتہارات، غلط بیانی، اور دیگر غیر منصفانہ تجارتی طریقوں سے بھی بچاتا ہے۔

ریگولیٹری اتھارٹیز

  • حکومت نے مختلف صنعتوں کے لیے ریگولیٹری اتھارٹیز قائم کی ہیں، جو ان صنعتوں میں صارفین کے حقوق کی نگرانی کرتی ہیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرتی ہیں۔
  • یہ اتھارٹیز صارفین کی شکایات کو سننے اور ان کا ازالہ کرنے کے لیے بھی ذمہ دار ہیں۔

ادارے کا نام خدمات
لیگل ایڈ سوسائٹیز مفت قانونی مشورہ اور نمائندگی
انسانی حقوق کی تنظیمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف قانونی مدد
کنزیومر پروٹیکشن کونسلز صارفین کی شکایات کا ازالہ

صارفین کو بااختیار بنانے میں تعلیم کا کردار

صارفین کو بااختیار بنانے میں تعلیم کا اہم کردار ہے۔ جب صارفین اپنے حقوق سے واقف ہوتے ہیں، تو وہ اپنے حقوق کا تحفظ کرنے اور غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے بہتر طور پر تیار ہوتے ہیں۔

آگاہی مہمات

  • حکومت اور دیگر تنظیموں کو صارفین کے حقوق کے بارے میں آگاہی مہمات چلانی چاہئیں تاکہ عوام کو ان کے حقوق کے بارے میں معلومات فراہم کی جا سکے۔
  • یہ مہمات اخبارات، ٹیلی ویژن، ریڈیو، اور سوشل میڈیا کے ذریعے چلائی جا سکتی ہیں۔

تعلیمی نصاب

  • صارفین کے حقوق کو تعلیمی نصاب میں شامل کیا جانا چاہیے تاکہ طلباء بچپن سے ہی اپنے حقوق سے واقف ہو جائیں۔
  • اس سے طلباء کو مستقبل میں ایک باخبر اور ذمہ دار صارف بننے میں مدد ملے گی۔

صارفین کے حقوق کی خلاف ورزی کی صورت میں کیا کریں؟

اگر آپ کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟ یہاں کچھ اقدامات ہیں جن پر آپ عمل کر سکتے ہیں:

ثبوت جمع کریں

  • خلاف ورزی سے متعلق تمام ثبوت جمع کریں، جیسے کہ رسیدیں، معاہدے، اور خط و کتابت۔

شکایت درج کرائیں

  • متعلقہ کمپنی یا سروس فراہم کرنے والے کے پاس اپنی شکایت درج کرائیں۔ اگر وہ آپ کی شکایت کا ازالہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں، تو آپ کنزیومر پروٹیکشن کونسل یا کسی اور متعلقہ ریگولیٹری اتھارٹی میں شکایت درج کرا سکتے ہیں۔

قانونی چارہ جوئی

  • اگر آپ کی شکایت کا ازالہ نہیں ہوتا، تو آپ عدالت میں قانونی چارہ جوئی کر سکتے ہیں۔

قانون صارفین کے تحفظ کے دائرے میں کیسے تشریف لے جائیں؟قانونی امداد حاصل کرنا اس وقت ضروری ہو جاتا ہے جب آپ کسی ایسی صورتحال میں پھنس جائیں جہاں آپ کو اپنے حقوق کا علم نہ ہو یا آپ کو یہ سمجھ نہ آئے کہ آپ کو کیا کرنا چاہیے۔ پاکستان میں ایسے کئی ادارے اور تنظیمیں موجود ہیں جو آپ کو مفت قانونی مشورہ اور مدد فراہم کر سکتی ہیں۔ ان میں سے کچھ بڑے نام درج ذیل ہیں:

صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی راستے

صارفین کو اکثر ان مصنوعات یا خدمات کے بارے میں شکایت ہوتی ہے جو انہوں نے خریدی ہوتی ہیں یا حاصل کی ہوتی ہیں۔ یہ شکایات ناقص معیار، غلط بیانی، یا وعدوں کی عدم تعمیل سے متعلق ہو سکتی ہیں۔ پاکستان میں صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کئی قانونی راستے موجود ہیں جن سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

شکایت درج کرانا

  • سب سے پہلے، آپ متعلقہ کمپنی یا سروس فراہم کرنے والے کے پاس اپنی شکایت درج کرائیں۔ اکثر کمپنیاں صارفین کی شکایات کو حل کرنے کے لیے ایک مخصوص نظام رکھتی ہیں۔
  • اگر کمپنی آپ کی شکایت کا ازالہ کرنے میں ناکام رہتی ہے، تو آپ کنزیومر پروٹیکشن کونسل (Consumer Protection Council) یا کسی اور متعلقہ ریگولیٹری اتھارٹی میں شکایت درج کرا سکتے ہیں۔
  • صارفین کی شکایات درج کرانے کے لیے آن لائن پورٹلز بھی موجود ہیں جہاں آپ آسانی سے اپنی شکایت درج کروا سکتے ہیں۔

قانونی نوٹس بھیجنا

  • اگر آپ کی شکایت کا ازالہ نہیں ہوتا، تو آپ ایک وکیل کے ذریعے کمپنی کو قانونی نوٹس بھیج سکتے ہیں۔ یہ نوٹس انہیں آپ کے حقوق کی خلاف ورزی سے آگاہ کرے گا اور انہیں ایک مخصوص مدت کے اندر مسئلہ حل کرنے کا موقع دے گا۔
  • قانونی نوٹس میں آپ کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ اور اس کے ازالے کا مطالبہ بھی شامل ہونا چاہیے۔
  • قانونی نوٹس بھیجنے سے اکثر کمپنیاں سنجیدہ ہو جاتی ہیں اور مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

آن لائن دھوکہ دہی سے کیسے بچیں؟

آج کل آن لائن شاپنگ کا رجحان بڑھ گیا ہے، اور اس کے ساتھ ہی آن لائن دھوکہ دہی کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اگر آپ آن لائن دھوکہ دہی کا شکار ہو جاتے ہیں، تو آپ درج ذیل اقدامات کر سکتے ہیں:

فوری رپورٹ درج کرائیں

  • اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ آن لائن دھوکہ دہی کا شکار ہو گئے ہیں، تو فوری طور پر سائبر کرائم ونگ (Cyber Crime Wing) میں رپورٹ درج کرائیں۔
  • اپنے بینک اور کریڈٹ کارڈ کمپنی کو بھی مطلع کریں تاکہ وہ آپ کے اکاؤنٹ کو بلاک کر سکیں اور مزید نقصان سے بچا جا سکے۔
  • آن لائن پلیٹ فارم جہاں آپ نے خریداری کی تھی، ان کو بھی اس واقعے کی اطلاع دیں۔

ثبوت جمع کریں

  • دھوکہ دہی سے متعلق تمام ثبوت جمع کریں، جیسے کہ ای میلز، رسیدیں، اور بینک اسٹیٹمنٹس۔
  • ان ثبوتوں کو اپنی رپورٹ کے ساتھ منسلک کریں تاکہ آپ کے کیس کو مضبوط بنایا جا سکے۔
  • اس کے علاوہ، اگر ممکن ہو تو اس شخص یا کمپنی کی معلومات بھی جمع کریں جس نے آپ کو دھوکہ دیا ہے۔

مفت قانونی امداد کیسے حاصل کریں؟

پاکستان میں بہت سے ایسے ادارے موجود ہیں جو مستحق افراد کو مفت قانونی امداد فراہم کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ اہم ادارے درج ذیل ہیں:

لیگل ایڈ سوسائٹیز

  • پاکستان میں کئی لیگل ایڈ سوسائٹیز موجود ہیں جو غریب اور مستحق افراد کو مفت قانونی مشورہ اور نمائندگی فراہم کرتی ہیں۔
  • یہ سوسائٹیز آپ کو مختلف قانونی مسائل میں مدد کر سکتی ہیں، جیسے کہ خاندانی مسائل، جائیداد کے تنازعات، اور مجرمانہ مقدمات۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں

  • پاکستان میں بہت سی انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی کام کر رہی ہیں جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے شکار افراد کو قانونی مدد فراہم کرتی ہیں۔
  • یہ تنظیمیں آپ کو تشدد، امتیازی سلوک، اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھانے میں مدد کر سکتی ہیں۔

صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکومتی اقدامات

حکومت پاکستان نے صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ ان میں سے کچھ اہم اقدامات درج ذیل ہیں:

کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ

  • حکومت نے کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ (Consumer Protection Act) نافذ کیا ہے، جو صارفین کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے اور انہیں ناقص مصنوعات اور خدمات کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق دیتا ہے۔
  • یہ ایکٹ صارفین کو جعلی اشتہارات، غلط بیانی، اور دیگر غیر منصفانہ تجارتی طریقوں سے بھی بچاتا ہے۔

ریگولیٹری اتھارٹیز

  • حکومت نے مختلف صنعتوں کے لیے ریگولیٹری اتھارٹیز قائم کی ہیں، جو ان صنعتوں میں صارفین کے حقوق کی نگرانی کرتی ہیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرتی ہیں۔
  • یہ اتھارٹیز صارفین کی شکایات کو سننے اور ان کا ازالہ کرنے کے لیے بھی ذمہ دار ہیں۔

ادارے کا نام خدمات
لیگل ایڈ سوسائٹیز مفت قانونی مشورہ اور نمائندگی
انسانی حقوق کی تنظیمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف قانونی مدد
کنزیومر پروٹیکشن کونسلز صارفین کی شکایات کا ازالہ

صارفین کو بااختیار بنانے میں تعلیم کا کردار

صارفین کو بااختیار بنانے میں تعلیم کا اہم کردار ہے۔ جب صارفین اپنے حقوق سے واقف ہوتے ہیں، تو وہ اپنے حقوق کا تحفظ کرنے اور غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے بہتر طور پر تیار ہوتے ہیں۔

آگاہی مہمات

  • حکومت اور دیگر تنظیموں کو صارفین کے حقوق کے بارے میں آگاہی مہمات چلانی چاہئیں تاکہ عوام کو ان کے حقوق کے بارے میں معلومات فراہم کی جا سکے۔
  • یہ مہمات اخبارات، ٹیلی ویژن، ریڈیو، اور سوشل میڈیا کے ذریعے چلائی جا سکتی ہیں۔

تعلیمی نصاب

  • صارفین کے حقوق کو تعلیمی نصاب میں شامل کیا جانا چاہیے تاکہ طلباء بچپن سے ہی اپنے حقوق سے واقف ہو جائیں۔
  • اس سے طلباء کو مستقبل میں ایک باخبر اور ذمہ دار صارف بننے میں مدد ملے گی۔

صارفین کے حقوق کی خلاف ورزی کی صورت میں کیا کریں؟

اگر آپ کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟ یہاں کچھ اقدامات ہیں جن پر آپ عمل کر سکتے ہیں:

ثبوت جمع کریں

  • خلاف ورزی سے متعلق تمام ثبوت جمع کریں، جیسے کہ رسیدیں، معاہدے، اور خط و کتابت۔

شکایت درج کرائیں

  • متعلقہ کمپنی یا سروس فراہم کرنے والے کے پاس اپنی شکایت درج کرائیں۔ اگر وہ آپ کی شکایت کا ازالہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں، تو آپ کنزیومر پروٹیکشن کونسل یا کسی اور متعلقہ ریگولیٹری اتھارٹی میں شکایت درج کرا سکتے ہیں۔

قانونی چارہ جوئی

  • اگر آپ کی شکایت کا ازالہ نہیں ہوتا، تو آپ عدالت میں قانونی چارہ جوئی کر سکتے ہیں۔

글을 마치며

امید ہے کہ یہ مضمون آپ کے لیے مددگار ثابت ہوگا۔ ہمیشہ اپنے حقوق کے بارے میں باخبر رہیں اور ضرورت پڑنے پر قانونی امداد حاصل کرنے سے نہ ہچکچائیں۔ آپ کے حقوق کا تحفظ آپ کی ذمہ داری ہے۔

صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔ آئیے مل کر ایک منصفانہ اور شفاف تجارتی ماحول بنائیں۔

مزید معلومات اور مدد کے لیے آپ کنزیومر پروٹیکشن کونسل اور لیگل ایڈ سوسائٹیز سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

알아두면 쓸모 있는 정보

1. اپنی خریداریوں کی رسیدیں ہمیشہ محفوظ رکھیں۔ یہ رسیدیں آپ کو کسی بھی شکایت کی صورت میں مدد فراہم کر سکتی ہیں۔

2. کسی بھی معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے اسے اچھی طرح پڑھ لیں۔ اگر آپ کو کوئی چیز سمجھ نہیں آتی ہے، تو کسی وکیل سے مشورہ کریں۔

3. آن لائن خریداری کرتے وقت ہمیشہ محفوظ اور معتبر ویب سائٹس استعمال کریں۔

4. اگر آپ کو کوئی مشکوک سرگرمی نظر آتی ہے، تو فوری طور پر حکام کو اطلاع دیں۔

5. اپنے حقوق کے بارے میں جاننے کے لیے آگاہی مہمات اور تعلیمی پروگراموں میں حصہ لیں۔

중요 사항 정리

اس مضمون میں ہم نے صارفین کے حقوق کے تحفظ کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ کس طرح آپ اپنی شکایات درج کرا سکتے ہیں، مفت قانونی امداد حاصل کر سکتے ہیں، اور آن لائن دھوکہ دہی سے بچ سکتے ہیں۔

ہم نے یہ بھی دیکھا کہ حکومت اور دیگر تنظیمیں صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہیں۔ آخر میں، ہم نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم صارفین کو بااختیار بنانے میں کتنا اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اپنے حقوق کے بارے میں باخبر رہیں اور ان کا تحفظ کریں!

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖

س: صارفین کے حقوق کیا ہیں؟

ج: صارفین کے حقوق میں یہ شامل ہے کہ آپ کو محفوظ مصنوعات اور خدمات فراہم کی جائیں، آپ کو درست معلومات دی جائیں، اور اگر آپ کو کوئی شکایت ہے تو اس کا ازالہ کیا جائے۔

س: اگر مجھے کسی فراڈ کا سامنا کرنا پڑے تو میں کیا کروں؟

ج: اگر آپ کو کسی فراڈ کا سامنا کرنا پڑے تو فوری طور پر پولیس کو رپورٹ کریں اور اپنے بینک یا کریڈٹ کارڈ کمپنی کو مطلع کریں۔ آپ کنزیومر پروٹیکشن ایجنسی میں بھی شکایت درج کروا سکتے ہیں۔

س: کیا میں کسی ناقص پروڈکٹ کو واپس کر سکتا ہوں؟

ج: جی ہاں، اگر آپ کو کوئی ناقص پروڈکٹ ملتی ہے تو آپ اسے واپس کر سکتے ہیں اور اس کی قیمت واپس لے سکتے ہیں۔ آپ کو پروڈکٹ کی رسید اور وارنٹی کارڈ پیش کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ، آپ اس متعلقہ دکان یا کمپنی سے رابطہ کر کے بھی اپنی شکایت درج کروا سکتے ہیں۔